سعودیہ کا وژن 2030
خادم حرمین کنگ سلمان بن عبدالعزیز کی ہدایات پر ایک نظام عمل تشکیل دیا گیا ہے. اس میں ان کی دور اندیشی ودور بینی کا پتہ چلتا ہے. نیز اس میں ملک کےفروغ کے لیے صلاحیت پنہاں نظر آنے کے ساتھ امن وسلامتی بھی قائم ہوتی ہے۔
چنانچہ سن ٢٠٣٠ کا وژن پیش کیا گیا، اس میں ملک کی خدمت اور مزید ترقی وفروغ شامل تھا، اسی کے ساتھ ساتھ اس میں ملک کو ترقی یافتہ ملکوں کی صف میں کھڑا کرنے کا خواب بھی شامل تھا۔ اس کے اہم بنود میں سعودیہ کے مستقبل کی ایک مضبوط تعمیری منصوبہ کی جھلک ملتی ہے، اور عالم اسلامی سے مزید تعداد میں زائرین بیت اللہ کے لئے مواقع پنہاں ہیں ۔
محکم لیڈرشپ نے یہ عہد لیا ہے کہ وہ کسی بھی حال میں جلد از جلد اپنے وعدوں کو پورا کرکے رہینگے ، تاکہ سعودی حکومت ایک عظیم حکومت بن کر ابھرے، اور جب کابینہ نے سعودی سن ٢٠٣٠ وژن کو منظوری دیدی، اور وژن کے منصوبہ پر نظر ڈالنے کے لئے اقتصادی امور اور ترقیاتی کونسل کو یہ سونپ دیا، اس سے ان کی مزید دور بینی اور دور اندیشی کا پتہ چلتا ہے۔
اکثر کامیابی کے قصے کسی خواب سے ہی شروع ہوتے ہیں، طاقت وصلاحیت کے بل پر سچ ہونے والے خواب کی تعداد زیادہ ہے۔

سعودیہ کو یہ پتہ ہے کہ حرمین شریفین ان کے لئے ایک تحفہ ہے، روئے زمین کا سب سے پاک ترین مقام، ایک ارب مسلمانوں سے زیادہ کا قبلہ، یہی ہماری عربی اور اسلامی عمق ہے، اور وژن کے مطابق ہماری کامیابی کا راز اول بھی۔
تینوں بر اعظموں کی ملاپ کا مرکز اور بطور ورلڈ گیٹ میں قابل اہم خطہ میں شمار ہونے کی حیثیت سے حکومت نے اپنی ممتاز جغرافیائی جائے وقوع کی وجہ سے حرمین کی خدمت میں ایک ضخیم اور طاقتور سرمایہ کاری کے لئے اس نے اپنے آپ کو وقف کر دیا۔
سعودیہ کو اپنی اسلامی اور عربی تاریخ اور ثقافتی ورثہ پر ناز ہے، اور اس ورثہ کو اپنے سینہ سے لگائے رکھنے اور حفاظت کرنے کا انہیں ادراک بھی ہے، اسی خالص اسلامی اور عربی اقدار کو قائم کرنے کے بعد ان کی قومی اور ملکی سلامتی کا انحصار ہے۔
سعودیہ اپنی پوری تاریخ میں اپنی ایسی قدیم تہذیب سے معروف ہے جو دنیا کی دوسری تہذیبوں سے ایک دوسرے کے ساتھ جوڑے رکھتی ہے، ان کی تہذیب میں ایک اچھوتی خاصیت ہے، جو اس کی وطنی شناخت کو دوسروں سے ممتاز کرتی ہے، اور اسی سے ان کی پہچان نمایاں بھی ہوتی ہے، اور یہی وہ تہذیب ہے جو ان کو اس پیڑھی سے اس پیڑھی تک جوڑتی ہے.


Sorry, the comment form is closed at this time.