• English
  • Arabic
  • اردو
  • Persian
  • French
  • Spanish
logologo
  • مرکزی
  • منصوبہ
  • سعودیہ کا وژن 2030
  • توسیع کا قصہ
  • ویڈیو کلپس
  • فوٹو گیلری
  • تصاویر طلب کریں
  • ہم سے رابطہ کریں

توسیع کا قصہ

جدید توسیعی تعمیر کا یہ قصہ حقیقت بن کر شروع ہوگیا، اور مسجد حرام کی تاریخ میں سب سے ضخیم توسیع میں شمار ہونے لگا، نیز مستقبل میں کسی بھی قسم کی تعمیری کام کا یہ ایک مسلمہ قاعدہ بن گیا۔

سعودی توسیع ثالث کا یہ پروجیکٹ اور اس سے متصل حصوں کا ڈیزائن مرکزی حصہ کی تجدید کے ضمن میں تیار ہوکر آگیا۔ تاکہ زودافزوں نمازیوں نیز مکہ مکرمہ کے رہائشین اور زائرین بیت اللہ کے امن وامان کے تئییں حلول کے مقصد کے ساتھ بھیڑ سے بھی نمٹا جاسکے۔ مزید یہ کہ حجاج کرام اور معتمرین حضرات کے لیے شعائر کی ادائگی تعمیراتی کام کے شانہ بشانہ سہولت کے ساتھ جاری رہے، تاکہ مکہ مکرمہ کو عالمی سطح پر صف اول میں کھڑا کیا جاسکے۔

اس سعودی توسیع ثالث کے پروجیکٹ میں کچھ اہم حصے شامل ہیں، جن میں شمال کی جانب سے حرم کی جدید عمارت میں اضافہ، یہ کعبہ مشرفہ کے رخ کی طرف ایک شعاعی عمارت کی شکل میں متمیز ہوتی ہے۔ توسیع کے اندر عمارت کی منزل بھی شامل ہے، جس میں تقریبا 3 لاکھ نمازی سما سکیں، اور تینوں منزلوں سے لیکر چھت کی منزل تک 5 گنا تعداد کے ساتھ، اسی کے ساتھ پروجیکٹ کی زمینی حصے میں الیکٹرومیکانیکل اور دوسرے آفس شامل ہیں۔

اندر جانے والا دروازہ اور سامنے کی عمارت کے ڈیزائن میں حرم کی حالیہ تعمیری چھاپ کا خیال رکھا گیا ہے، نیز حرم کے احاطے کے لئے مشہور وادئ فاطمہ سے حاصل کی گئی خاکی رنگ کا سنگ مرمر بچھایا گیا ہے، جدید توسیع شدہ گیٹ میں اندر اور باہر دونوں جانب مصنوعی پتھروں اور سمنٹ کے ٹکروں کا استعمال کیا گیا ہے، اس کے علاوہ عمارت کے خارجی گیٹ میں شیشوں اور کرسٹال کے ٹکروں کی مدد سے بہترین بیل بوٹے کا کام ہے۔

سعودی توسیع ثالث میں چھوٹے بڑے 88دروازے شامل ہیں، مخصوص اور اعلی درجہ کے لوہے کا ڈیزائن اور ایسے کیمیائی تکنیک کا ستعمال کیا گیا ہے کہ جس کا ٹکاؤ اگلے 120 سالوں تک چل سکے، یہ تمام دروازے بھیڑ کے پیش نظر ادارے کی صوابدید پر آٹومیٹک کھلتے اور بند ہوتے ہیں، بیچ کا سب سے بڑا 95 میٹر چوڑا دروازہ ہے، جس کے اوپر دو منارے ہیں، ان کی اونچائی 137 میٹر ہے، ان دونوں کے علاوہ مشرق اور مغرب جانب سامنے کے گیٹ میں اتنی ہی اونچائی کے حامل 2 مینارے اور ہیں جو تعمیری مرحلے میں ہیں۔

اسی طرح ڈیزائن کا انتخاب ایسا بھی ہوا ہے کہ نماز کے لیے ہال اور مخصوص گذرگاہ بھی ہو، اور یہ ڈیزائن شعاعی اور دائری شکل کا ہے، جس کے مرکز میں کعبہ ہو اور اس محور کے اردگرد یہ دائرہ ہوگا۔

اصل گذرگاہ کے دونوں جانب نماز کے لیے تمام ہال 4 موازی دوری پر تقسیم کیا گیا ہے، اس کے بیچ میں 18 داخلی صحن عمارت کی اونچائی کے مماثل ہونگے، تاکہ سہولت کے ساتھ سعودی توسیع ثالث اور تمام منزلوں کے درمیان عمارت میں جاری کام کے دوران بھیڑ کو فارغ کیا جاسکے، چھت اور گنبدوں کو متحرک شیشوں کے ذریعہ ڈھانپ دیا گیا جو روشنی اور مناسب موسم کے دنوں میں قدرتی اور صاف ہوا آسکے، اس کے علاوہ 4 ایسے گنبد ہیں جس پر سونے کی پچی کاری کام جڑا ہوا ہے۔

توسیعی عمارت کے بالکل اوپر ایک متحرک اور شاندار گنبد ہے، جس کا دائرہ 36 میٹر اور اونچائی 82 میٹر ہے، ڈیزائن میں زیادہ سے زیادہ ہوا اور قدرتی روشنی حاصل کرنے کا خیال رکھا گیا ہے۔ اس کے علاوہ فائر فائیٹنگ اور ائرکنڈیشنگ کی بھی سہولیت موجود ہے۔ اسی کے ساتھ شاندار اور بینظیر لکڑیوں کی آرائش ان اشیاء میں چار چاند لگادیتی ہے۔

اندرونی ڈیکوریشن میں صحن کے اوپر اور کھمبوں میں کرارہ کا سنگ مرمر استعمال کیا گیا ہے۔ اس کے علاوہ دیوار میں آیات قرآنی پر سونے کا پانی چڑھایا ہوا پیتل کا کام استعمال ہوا ہے۔ اندرونی ہال میں چھتوں پر صرف زینت ہی نہیں بلکہ مختلف لیمپوں اور لٹکتے جھومر اضافی لیمپ یونٹ پر مصنوعی پتھر، سونے اور کرسٹال کی ڈھلائی کی گئی ہے، اس کے علاوہ بے شمار بڑے بڑے سنہرے فانوس، دیواروں پر زفیر سے حآصل شدہ نفیس پتھر پر مزین آیات قرآنی کندہ ہیں، جس کا طول 1000 میٹر ہے،جھومر کے اندر دنیا کے سب سے شاندار کرسٹال کا استعمال ہوا ہے، اس کی کاریگری خاص طور پر حرم مکی کے لیے آسٹریا اور چیک کی فیکٹریوں میں تیار ہوا ہے۔

مذکورہ بالا تمام سہولیات کے ساتھ جدید توسیعی عمارت کے اندر 185 لفٹ ہیں، ان کے علاوہ 680 لفٹ ایسے ہیں جو تمام دروازوں اور گلیاروں میں ضرورت مند اور بوڑھوں کے لیے دستیاب ہیں۔

جدید نظام

جدید توسیعی عمارت میں جدید تکنیکی نظام فراہم کیا گیا ہے، جس کا آپریٹنگ سسٹم مکمل طور پر آٹومیٹک ہے، یہ سسٹم کچھ اس طرح ہیں:

لائیٹنگ سسٹم

موسم کے احوال جاننے کا سسٹم

ساؤنڈ سسٹم

مرکزی گھڑی اور نماز کے اوقات کا سسٹم

ٹی وی براڈکاسٹنگ سسٹم

سی سی ٹی وی سسٹم

ٹریفک کنٹرول سسٹم

فائر فائیٹنگ اور الارم اور پانی نکاسی کا سسٹم

پلاننگ کے حساب سے توسیع کا کام شمال جانب 157000 مربع میٹر زمین پر یہ دائرہ پھیلا ہوا ہے، اسی حساب سےتوسیعی عمارت، گیٹ اور دروازے جو توسیعی منصوبوں میں مکون ثانی کی حیثیت سے اس کے اندر 280،000 نمازیوں کے لیے گنجائش موجود ہے۔ اسی طرح گنبد والی جگہ کی زمینی منزل میں ڈرینیج سسٹم کی سیفٹی اور سیکیوریٹی سسٹم بھی موجود ہے، اس میں وضوخانے، الیکٹریک سسٹم اور اسٹور موجود ہیں۔

 

کھلی جگہ میں سایہ کے لیے چھوٹے بڑے مختلف قسم کی چھتریوں کا بھی انتظام ہے۔ ان میں سے آٹھ بڑی چھتریاں مرکزی دروازہ کے پاس ہیں۔

 

توسیعی عمارت کو چھتوں سے جوڑنے کے لئے برابر اونچائی پر پلوں کے 4 مجموعے ہیں، اس کے علاوہ ایک پانچواں مجموعہ ہے، جو مروہ پہاڑ، خلائی حصہ اور شمالی چھتوں کو جوڑتا ہے، اس سے مسجد حرام کے  راستےمیں آنے جانے تک ٹریفک کو فارغ کیا جاسکے گا، اسی کے ساتھ ساتھ ساتھ ایمرجینسی کے دوران استعمال میں لانے کے لیے دونوں پلوں کے آخر میں 2 ہیلی پیڈ بھی تیار کیا گیا ہے۔

 

شمالی چھت میں توسیع ثالث کا ایک بہت ہی اہم عنصر شامل ہے، جو ایک خاص انداز کا 6 منزلوں پر مشتمل ہے جو تقریبا 3،60000 (تین لاکھ ساٹھ ہزار) نمازیوں کے لیے گنجائش کے ساتھ ایک اضافی خلائی جگہ میں شمار ہوگا۔

 

منصوبہ پر کام کررہی کمپنی نے حمام خانوں اور وضوء خانوں کا انتظام چھتوں میں کیا ہوا ہے، جو منصوبہ کے تکملہ تک ان سب کی تعداد 12400 اور 8650 وضوء خانے ہیں، ان میں کچھ حمام خانے ضرورت مند افراد کے لیے خاص ہیں، آب زمزم کی نلوں کے علاوہ پینے کے لیے پانی کے نلوں کا بھی وہاں انتظام ہے۔

 

حرم شریف کے شمال جانب سے حجاج کرام اور معتمرین حضرات کو حرم تک آسانی کے ساتھ پہنچنے اور ٹریفک کو کنٹرول کرنے کے لیے 900 سے 1100 میٹر لمبے لمبے 4 سورنگ کھودے گئے ہیں، جو سیفٹی سسٹم، ائرکنڈیشننگ اور حمام خانوں کے نظام سے پوری طرح مربوط ہے، ان سورنگوں میں چند علحدہ راہداریاں بھی ہیں جہاں سے اللہ نہ کرے ایمرجینسی کے دوران مخصوص آلے داخل کیے جاسکیں، اس کے علاوہ 2 ایمرجنسی سرنگ بھی کھودی گئی ہے۔

 

اس وسیع وعریض توسیعی تعمیر مکمل خدمات کی ادائیگی کے لیے سرنگ کے آخری حصے میں ایک حرم شریف ہاسپیٹل کی بھی تعمیر ہوگی، جس میں تقریبا 200 بستر سما سکیں، اس کے علاوہ ایک عمارت ڈاکٹروں کی رہائش اور دوسری عمارت ملازمین کے لیے تعمیر کیجائیگی۔

مرکزی خدمات

اسی طرح خدمات کے لیے ٹنل کی تعمیر مکمل ہوئی جو حرم کے مرکزی خدمات کے کمپلیکس کے ساتھ اس کو جوڑ دیگا، یہ 1150 میٹر کی لمبائی اور 16 میٹر چوڑا سورنگ حرم کے مرکزی سروس اسٹیشن سے جوڑنے کے لیے تیار کیا گیا ہے، جس میں کولنگ سسٹم ہے، اور یہ دنیا کا سب سے بڑا سسٹم مانا جاتا ہے، اس کامپلیکس میں آفس، پولیس، طب اور پروجیکٹ کی سیفٹی کے ساتھ ساتھ آب زمزم کا کولنگ سسٹم بھی ہے۔

اس کامپلیکس

·         الیکٹرک ہائی پریشر اسٹیشن، اس میں 6 ٹرانسفر لگے ہوئے ہیں، اور ان میں سے ہر ایک 67 میگاواٹ ہارس پاور کا ہے۔

·         احتیاطی جنریٹر اسٹیشن، اس میں 14 جنریٹر لگے ہوئے ہیں، اور ان میں سے ہر ایک ساڑھے پانچ میگاواٹ کا ہارس پاور ہے۔

·         ائرکنڈیشننگ اور پانی ٹھنڈا کرنے والا اسٹیشن، اس میں مستقبل کے پروجیکٹ کو دھیان میں رکھتے ہوئے 160،000 ٹن چیلینگ واٹر کی طاقت مہیا ہے۔

·         اوٹومیٹک انلوڈنگ سسٹم کی مدد سے مرکزی ردی جمع کرنے والا اسٹیشن، جو روزانہ 600 ٹن جمع ہوتے ہیں۔

·         9000 مکعب میٹر کی وسعت والی پانی کی ٹنکی، فائر فائیٹنگ ۔

·         16000 میٹر مکعب والے  واٹر پائپ اسٹیشن۔

·         ملٹی ٹاسک سروس فراہم کرنے والی عمارت، مخصوص میکانیکل آپریٹنگ سسٹم کے ذریعہ۔

·         فن اور تکنیکی ٹریننگ فراہم کرنے والی عمارت۔

بجلی فراہمی

توسیعی منصوبہ اور اس سے متصل اجزاء کے لیے مسلسل بجلی دستیابی کو یقینی بنانے کے لیے ایک نظام عمل وضع کیا گیا ہے، جو پروجیکٹ کو بھرپور بجلی فراہم کرائیگا، تاکہ کسی بھی حال میں بنا بجلی کٹوتی کے کام تسلسل کے ساتھ جاری رہے، بایں براں4400 میگاواٹ پاور سے اور ایک لاکھ چار ہزار تین سو سترہ میٹر لمبے کیبل کی مدد سے 7 بڑے اسٹیشن کا قیام ہوگا، ان کے علاوہ قدیم اور جاری تمام اسٹیشن کو فروغ دیکر توسیعی پروجیکٹ اور سروس سنٹر سے جوڑ دیا جائیگا۔

مطاف کی توسیع

1000 سال سے بھی زیادہ اور سعودی توسیع اول، ثانی اور ثالث کے دوران مطاف کے صحن میں جس کے ارد گرد قدیم حرم کا ہال موجود ہے، اس میں کسی بھی قسم کی تبدیلی نہیں کی گئی۔ سعی اور مطاف کے شعائر سے مرتبط ہونے کی وجہ سے، طواف؛ کعبہ کے ارد گرد صحن کے حصہ میں ہی منحصر ہونے کی وجہ سے اور سعودی توسیع اول کے دوران تعمیر کردہ عمارت کے اندر بے شمار کھمبوں کے ہونے کی وجہ سے طواف میں خلل اور نمازیوں اور طواف کرنے والوں میں تصادم ہونے کی وجہ سے ضرورت باقی رہی کہ ٹریفک اور طواف کرنے والوں کو کنٹرول کرنے کے لیے صحن سے چھت تک برابر کوئی مناسب حل ڈھونڈا جائے۔

 

حل شدہ ڈیزائن میں 2 اہم عنصر موجود ہیں، ایک تو یہ کہ قدیم حرم اور سعودی توسیع اول کی ترتیب کو بحال کیا جائے، زمینی منزل کی سطح کو بیسمنٹ کے برابر کرنا اور زمینی منزل اور بیسمنٹ کے کھمبوں کی تعداد 60٪ کم کیا جائے، پہلی منزل کے کھمبوں کی تعداد 70٪ تک گھٹا کر ٹوٹل 65٪ تک کی جائے۔ یہ دھیان میں رکھتے ہوئے کہ عمارت کا ڈیزائن اس طرح ہو جو 5 سطحوں میں 26 میٹر تک منقسم ہے، تاکہ صحن سے مرتبط بسمنٹ، زمینی منزل، پہلی منزل اور چھت کی منزل میں توسیعی مرحلہ پورا ہوجانے کے بعد یہ تمام جگہیں مطاف میں شامل ہوجائیں، اور یہ کہ مستقبل میں آنے والی پیڑھی کے لیے جب وہ مزید توسیع کی نیت رکھیں تو دوسری منزلیں بھی اس میں سما سکیں۔

 

اس طرح ڈیزائن تمام منزلوں میں اور بسمنٹ سے لیکر اوپری چھتوں تک طواف کا عمل ممکن ہوسکتا ہے، اس کا مقصد صرف یہ ہوگا کہ اس سے بھڑ چھٹیں، اور حجاج کرام امن وسلامتی اور آرام کے ساتھ اپنے شعائر کی ادائیگی کرسکیں۔

 

ڈیزائن کے اندر حرم کی سطح اور مطاف کے صحن میں فرق نظر آئیگا، ایسا اس لیے ہوا کیونکہ صحن مطاف کی سطح کو قدیم حرم کی سطح کے برابر کیا گیا، اور تاکہ توسیع اول اور ثانی کے بسمنٹ کے لیے براہ راست ربط برقرار ہوجائے۔

 

چنانچہ قدیم حرم کی تعمیری چھاپ کو مکمل طور پر برقرار رکھتے ہوئے 3 مرحلوں میں کام شروع ہوگیا، بالکل نئی تکنیک اور روشن وتابناک تاریخ کا پورا پاس ولحاظ رکھتے ہوئے مرمت واصلاح کا کام شروع ہوگیا۔

 

کچھ ہی سالوں میں پروجیکٹ کی توسیع ثالث کے دوران زائرین کی تعداد میں بھاری اضافہ ہوگیا، کتنی ہی رکاوٹیں اور بندشیں پیش آئیں، پھر بھی طواف کے شعائر میں کسی بھی قسم کا رخنہ نہ پڑنے دیا اور مکمل طور پر امن وسلامتی اور تسلسل کے ساتھ کام آگے بڑھتا گیا۔

زمزم

اسی طرح یہ کوشش بھی شامل رہی کہ چاہ زمزم اور اس کی تہہ کی حفاظت کے ساتھ ساتھ اس کی خوبی اور کمیت کے تحفظ پر بھی نظر رکھی جائے۔

 

حرم کے ارد گرد تمام جانب سے آب زمزم وادی ابراہیم کی آخری تہہ کی جانب رخ کرتا ہے، اور یہی چاہ زمزم مبارک ہے۔ چنانچہ ہمارے لیے ایک بڑا جوکھم کا کام تھا کہ ہم اس کی اصلیت اور قدرتی سونتے کی حفاظت کریں، تاکہ حرم کے ارد گرد کسی دوسرے سونتے سے زمزم نہ پھوٹ پڑے۔

 

اللہ کے کرم سے پانی کے قدرتی سونتے اور اور پہاڑ کی جڑ میں موجود ارضیاتی ساخت میں توسیع کے دوران کوئی ٹھیس نہیں پہنچا۔ اس کام کے لیے تکنیکی اور دوسرے تجربے پہاڑوں کی تہوں اور بالو کے اندر اندرونی وادی میں قدرتی پانی کی چہل پہل کو بڑی باریکی کے ساتھ نانپا گیا اور پانی کا لیب ٹیسٹ کیا گیا۔ اور اس پر اتفاق ہوا کہ کسی بھی طرح کی کھدائی سے قدرتی ارضیاتی پانی کے سونتے سے زمزم کے پانی پر کسی بھی قسم کا اثر نہ پڑے۔

 

حرم کے ارد گرد موجود وادی سے لیب ٹیسٹ کے لیے انہی ارضیاتی ساخت سے کچھ کنکریاں اٹھائی گئیں جس پر سے پانی چاہ زمزم تک پہنچنے سے قبل گزرتا ہے۔

 

کنکریاں اکٹھا کردیے جانے کے بعد ان کو اچھی طرح کاٹا اور پیسا گیا، پھر پینے والے پانی سے اس کو دھویا گیا، اس کے بعد اس کسی بھی قسم کی گندگی کے چپکے رہنے کے ڈر سے جھلسایا گیا، پھر ان کو سوکھنے کے لیے اور صاف ستھری جگہوں میں منتقل کرنے کی غرض سے بند گاڑیوں کا اہتمام کیا گیا۔ پھر ان کنکریوں کو بنیاد کے سب سے نیچے رکھا گیا، اس پر کسی بھی قسم کی سطحی رساؤ سے دور رکھنے کے لیے پولی ایثیلین بچھایا گیا۔

 

پلان کے مطابق مطاف اور شمالی جانب توسیعی گوشہ پر مخصوص سمنٹ کی ڈھلائی کا مرحلہ پیش آیا، تاکہ ڈھلائی کا ڈیزائن شدہ پاور 800 کیلو سنٹی میٹر مربع پر ایسی رساؤ سے بچاؤ کے لیے جو عام طور پر سمنٹ ڈھلائی میں گھلنے لگتے ہیں۔

انفراسٹرکچر

سعودی توسیع ثالث کی انفراسٹرکچر کے لیے مندرجہ ذیل تین عناصر پر مشتمل ایک نظام عمل تیار کرنے کی حاجت تھی:

  1. حدا کے اسٹیشن سے ریفریجریٹر کو جاری کرکے پانی کی صفائی کے ذریعہ مرکزی سروس کے کمپلیکس کے لیے مرکزی سپلائی کے نظام کا منصوبہ۔
  2. سعودی توسیع ثالث کے ایریا میں واقع جبل کعبہ روڈ سے لیکر قصر الضیافہ کے کراسنگ تک 2800 ملی لیٹر کی قطر کا ایک سیویج سورنگ تیار کیا جائے۔
  3. ٹینک کی کیپیسیٹی 80000 میٹر مکعب تک کردی جائے اور موجودہ ٹینک کے آس پاس ایک لاکھ چالیس ہزار میٹر مکعب کیپیسیٹی کا ایک ٹینک تیار کیا جائے اور حرم شریف کے حمام خانوں میں پانی پہنچانے کے لیے پائپ لائن بچھائے جائیں۔

 

 

 

 

 

 

 

 

 

 

 

 

 

 

 

 

 

 

 

 

 

 

 

 

 

 

 

عالمی کارخانے

اعلی معیار کو چھونے کے لیے عالمی سطح پر معیاری خام مال کو چننے کے لیے مقامی اور بین الاقوامی فیکٹریوں کا انتخاب کیا گیا، اور یہ کہ جو سعودی توسیع ثالث کے معیار کے مطابق بھی ہو۔

 

اس تاریخ سے لیکر اب تک جب سے حضرت ابراہیم نے اس کی بنیاد ڈالی تب تک مسجد حرام کا حصہ 150 ایک سو پچاس مربع میٹر سے لیکر ڈیڑھ میلین مربع میٹر تک اضافہ ہوگیا۔ اور یہ ایسی خوبصورتی اور باریکی کے ساتھ تکملہ تک پہنچا جو بیت اللہ اور اللہ کے مہمان نوازی میں مکہ مکرمہ کو رول کو از خود واضح کرتا ہے۔

 

سوعدی توسیع ثالث کے تکملہ پر ایک میلین آٹھ سو پچاس نمازیوں کی تعداد کی گنجائش ہوجائیگی۔

 

حکومت نے پچھلے تنفیذی سالوں میں ہر وہ کوشش کرڈالی ہے جو اس پروجیکٹ کو مثالی بنا سکے۔

 

یہ ہمارے لیے ایک قیمتی پروجیکٹ ہے، ہم سب اس میں شریک ہیں۔

 

اگر اہم اپنے عہد وپیمان کی پاسداری کرینگے تو ہماری عزت برقرار رہیگی، ہم اس کو اپنے دل سے قریب تر رکھ کر امانت کے طور پر رکھینگے۔

 

اللہ کے مہمانوں کی خاطرداری اور راحت بخشی کے لیے ہم اپنا سب کچھ نچھاور کردینگے۔

 

یہ ایک مردانہ مہم ہے، حرمین شریفین کی خدمات کی بازیابی کے لیے اس کی بنیاد عدل ہے۔

 

صد احترام ان کے لیے جو اللہ کو دیے گیے اپنے وعدوں کو سچ کردکھاتے ہیں۔

 


Sorry, the comment form is closed at this time.

Third Saudi Expansion – Holy Haram 1
https://www.youtube.com/watch?v=_E-z0nwMwpg
Third Saudi Expansion – Holy Haram 2
https://www.youtube.com/watch?v=msACzCRR8gc
Third Saudi Expansion – Shamiyah – Holy Haram
https://www.youtube.com/watch?v=NuvzSSLPn-0
Copyright © 2020 Knowledge Corporation.
+966126511999
+966126511999